کولمبو 25مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایک طرف حکومت سابق صدر کے حامیوں کو قصور وار قرار دیتی ہے تو دوسری جانب سابق صدر کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت سیاسی نوعیت کی ہے، جس میں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں عینی شاہدین، سرکاری اہلکاروں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں پر اسی ماہ ہونے والے پرتشدد حملوں میں سابق صدر مہندرا راجا پاکے حامی سیاستدان اور پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔سری لنکا کے وسطی شہر کینڈی میں مسلمانوں کے سینکڑوں مکانات، مساجد اور دکانوں پر اسی مہینے منظم حملے کیے گئے تھے۔ حکومت نے بد امنی پر قابو پانے کے لیے ملک میں ایک ہفتے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ حملے تین دن تک جاری رہے۔ سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات، خطے میں بڑھتے ہوئے بدھ قوم پرست اور مسلم مخالف رجحانات کی ایک اور مثال ہیں۔ سری لنکا کی کل اکیس ملین کی آبادی میں ستر فیصد بدھ مذہب کے ماننے والے ہیں جبکہ مسلمانوں کی شرح نو فیصد ہے۔اس فسادات کے متاثرین اور عینی شاہدین نے دعوی کیا ہے کہ خصوصی پیرا ملٹری پولیس یونٹ (STF) کے اہلکاروں نے مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں اور اماموں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق سی سی ٹی وی سے حاصل کردہ فوٹیج کے مطابق ان کے دعوے درست نظر آتے ہیں۔ اس معاملے پر جب متعلقہ یونٹ سے ان کا موقف جانا گیا، تو انہوں نے کوئی بیان دینے سے انکار کر دیا۔کینڈی کی ایک مسجد کے امام اے ایچ رمیس نے بتایا، وہ حملے کرنے ہی آئے تھے۔ وہ چلا رہے تھے اور نازیبا زبان استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل ہماری وجہ سے ہی ہیں اور یہ کہ ہم سب دہشت گردوں کی طرح ہیں۔‘‘ اس مسجد کو بھی فسادات میں نشانہ بنایا گیا تھا۔سری لنکا میں پولیس فورسز کے قومی سطح پر ترجمان روون گنا سیکرا نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک خصوصی یونٹ معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے جبکہ ایک اور یونٹ فسادات میں سیاستدانوں کے مبینہ کردار کی بھی جانچ پڑتال میں مصروف ہے۔کولمبو حکومت کے وزیر برائے قانون رنجیت مدوما بندارا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کینڈی میں رونما ہونے والے فسادات انتہائی منظم تھے اور ان کی کڑیاں سابق صدر راجا پاکسے کی حمایت یافتہ سری لنکا پودوجانا پیرامونا (SLPP) نامی پارٹی سے ملتی ہیں۔ اس جماعت نے حال ہی میں منعقدہ علاقائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔دوسری جانب اسی ماہ ایک پریس کانفرنس میں راجا پاکسے نے ایسے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ خلاف یہ الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کولمبو حکومت نے اپنی خامیاں چھپانے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے فسادات کو طول دی۔